تنہا تنہا دکھ جھیلیں گے محفل محفل گائیں گے
جب تک آنسو پاس رہیں گے تب تک گیت سنائیں گے
تم جو سوچو وہ تم جانو ہم تو اپنی کہتے ہیں
دیر نہ کرنا گھر آنے میں ورنہ گھر کھو جائیں گے
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
اچھی صورت والے سارے پتھر ہوں ممکن ہے
ہم تو اس دن رائے دیں گے جس دن دھوکا کھائیں گے
کن راہوں سے سفر ہے آساں کون سا رستہ مشکل ہے
ہم بھی جب تھک کر بیٹھیں گے اوروں کو سمجھائیں گے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے