کے بعد نئے دن کی سحر آئے گی
دن نہیں بدلے گا تاریخ بدل جائے گی
ہنستے ہنستے کبھی تھک جاؤ تو چھپ کے رو لو
یہ ہنسی بھیگ کے کچھ اور چمک جائے گی
جگمگاتی ہوئی سڑکوں پہ اکیلے نہ پھرو
شام آئے گی کسی موڑ پہ ڈس جائے گی
اور کچھ یوں ہی جنگ سیاست مذہب
اور تھک جاؤ ابھی نیند کہاں آئے گی
میری غربت کو شرافت کا ابھی نام نہ دے
وقت بدلا تو تری رائے بدل جائے گی
وقت ندیوں کو اچھالے کہ اڑائے پربت
عمر کا کام گزرنا ہے گزر جائے گی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے