مٹھی بھر لوگوں کے ہاتھوں میں لاکھوں کی تقدیریں ہیں
جدا ہیں دھرم علاقے ایک سی لیکن زنجیریں ہیں
آج اور کل کی بات نہیں ہے صدیوں کی تاریخ یہی ہے
ہر آنگن میں خواب ہیں لیکن چند گھروں میں تعبیریں ہیں
جب بھی کوئی تخت سجا ہے میرا تیرا بہا ہے
درباروں کی شان و شوکت میدانوں کی شمشیریں ہیں
ہر جنگل کی ایک کہانی وہ ہی بھینٹ وہی قربانی
گونگی بہری ساری بھیڑیں چرواہوں کی جاگیریں ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے