منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے کو جانے کون
آوازوں کے بازاروں میں خاموشی پہچانے کون
صدیوں صدیوں وہی تماشہ رستہ رستہ لمبی کھوج
لیکن جب ہم مل جاتے ہیں کھو جاتا ہے جانے کون
وہ میری پرچھائیں ہے یا میں اس کا آئینہ ہوں
میرے ہی گھر میں رہتا ہے مجھ جیسا ہی جانے کون
جانے کیا کیا بول رہا تھا سرحد پیار کتابیں خون
کل میری نیندوں میں چھپ کر جاگ رہا تھا جانے کون
کرن کرن الساتا پلک پلک کھلتی نیندیں
دھیمے دھیمے بکھر رہا ہے ذرہ ذرہ جانے کون
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے