محبت میں وفاداری سے بچئے
جہاں تک ہو اداکاری سے بچئے
ہر اک صورت بھلی لگتی ہے کچھ دن
کی شعبدہ کاری سے بچئے
شرافت آدمیت مندی
بڑے شہروں میں بیماری سے بچئے
ضروری کیا ہر اک محفل میں بیٹھیں
تکلف کی روا داری سے بچئے
بنا پیروں کے سر چلتے نہیں ہیں
بزرگوں کی سمجھ داری سے بچئے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے