من بیراگی تن انوراگی قدم قدم دشواری ہے
جیون جینا سہل نہ جانو بہت بڑی فن کاری ہے
اوروں جیسے ہو کر بھی ہم با عزت ہیں بستی میں
کچھ لوگوں کا سیدھا پن ہے کچھ اپنی عیاری ہے
جب جب موسم جھوما ہم نے کپڑے پھاڑے شور کیا
ہر موسم شائستہ رہنا کوری دنیا داری ہے
عیب نہیں ہے اس میں کوئی لال پری نہ کلی
یہ مت پوچھو وہ اچھا ہے یا اچھی ناداری ہے
جو دیکھا وہ توڑا نگر نگر ویران کیے
پہلے اوروں سے نا خوش تھے اب خود سے بے زاری ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے