میں اپنے اختیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
دنیا کے کاروبار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
تیری ہی جستجو میں لگا ہے کبھی کبھی
میں تیرے انتظار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
فہرست مرنے والوں کی قاتل کے پاس ہے
میں اپنے ہی میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
اوروں کے ساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں
اک میں ہی اس دیار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
مجھ سے ہی ہے ہر ایک سیاست کا اعتبار
پھر بھی کسی شمار میں ہوں بھی نہیں بھی ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے