کچھ بھی بچا نہ کہنے کو ہر بات ہو گئی
آؤ کہیں شراب پئیں ہو گئی
پھر یوں ہوا کہ وقت کا پانسہ پلٹ گیا
امید جیت کی تھی مگر مات ہو گئی
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دیے ہو گئی
وہ آدمی تھا کتنا بھلا کتنا پرخلوص
اس سے بھی آج لیجے ملاقات ہو گئی
رستے میں وہ ملا تھا میں بچ کر گزر گیا
اس کی پھٹی قمیص مرے ساتھ ہو گئی
نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈیئے
اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے