کوشش کے باوجود یہ الزام رہ گیا
ہر کام میں ہمیشہ کوئی کام رہ گیا
چھوٹی تھی عمر اور طویل تھا
آغاز ہی لکھا گیا انجام رہ گیا
اٹھ اٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے
دہشت گروں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا
اس کا قصور یہ تھا بہت سوچتا تھا وہ
وہ کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گیا
اب کیا بتائیں کون تھا کیا تھا وہ ایک شخص
گنتی کے چار حرفوں کا جو نام رہ گیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے