کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے
اتنی خوں خار نہ تھیں پہلے عبادت گاہیں
یہ عقیدے ہیں کہ انسان کی ہے
تین چوتھائی سے زائد ہیں جو آبادی میں
ان کے ہی واسطے ہر بھوک ہے مہنگائی ہے
دیکھے کب تلک باقی رہے سج دھج اس کی
آج جس چہرہ سے تصویر اتروائی ہے
اب آتا نہیں کچھ بھی دکانوں کے سوا
اب نہ بادل ہیں نہ چڑیاں ہیں نہ پروائی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے