کبھی کبھی یوں بھی ہم نے اپنے جی کو بہلایا ہے
جن باتوں کو خود نہیں سمجھے اوروں کو سمجھایا ہے
ہم سے پوچھو عزت والوں کی عزت کا حال کبھی
ہم نے بھی اک شہر میں رہ کر تھوڑا نام کمایا ہے
اس کو بھولے برسوں گزرے لیکن آج نہ جانے کیوں
آنگن میں ہنستے بچوں کو بے کارن دھمکایا ہے
اس بستی سے چھٹ کر یوں تو ہر چہرہ کو کیا
جس سے تھوڑی سی ان بن تھی وہ اکثر آیا ہے
کوئی ملا تو ہاتھ ملایا کہیں گئے تو باتیں کیں
گھر سے باہر جب بھی نکلے دن بھر بوجھ اٹھایا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے