جو ہو اک بار وہ ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا
ہمیشہ ایک ہی سے پیار ہو ایسا نہیں ہوتا
ہر اک کشتی کا اپنا تجربہ ہوتا ہے میں
میں روز ہی منجدھار ہو ایسا نہیں ہوتا
کہانی میں تو کرداروں کو جو چاہے بنا دیجے
حقیقت بھی کہانی کار ہو ایسا نہیں ہوتا
کہیں تو کوئی ہوگا جس کو اپنی بھی ضرورت ہو
ہر اک بازی میں دل کی ہار ہو ایسا نہیں ہوتا
سکھا دیتی ہیں چلنا ٹھوکریں بھی راہگیروں کو
کوئی رستہ سدا دشوار ہو ایسا نہیں ہوتا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے