جسے دیکھتے ہی خماری لگے
اسے عمر ساری ہماری لگے
اجالا سا ہے اس کے چاروں طرف
وہ نازک بدن بھاری لگے
وہ سسرال سے آئی ہے مائکے
اسے جتنا دیکھو وہ پیاری لگے
حسین صورتیں اور بھی ہیں مگر
وہ سب سیکڑوں میں ہزاری لگے
چلو اس طرح سے سجائیں اسے
یہ دنیا ہماری تمہاری لگے
اسے دیکھنا گوئی کا فن
اسے سوچنا دین داری لگے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے