ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا
میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا
کس سے پوچھوں کہ کہاں ہوں کئی برسوں سے
ہر جگہ ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھے گھر میرا
ایک سے ہو گئے موسموں کے چہرے سارے
میری آنکھوں سے کہیں کھو گیا میرا
مدتیں بیت گئیں خواب سہانا دیکھے
جاگتا رہتا ہے ہر نیند میں بستر میرا
آئنہ دیکھ کے نکلا تھا میں گھر سے باہر
آج تک ہاتھ میں محفوظ ہے پتھر میرا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے