ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے
تمہارا گھر بھی اسی شہر کے حصار میں ہے
لگی ہے کہاں کیوں پتہ کیا جائے
جدا ہے ہیر سے رانجھا کئی زمانوں سے
نئے سرے سے کہانی کو پھر لکھا جائے
کہا گیا ہے ستاروں کو چھونا مشکل ہے
یہ کتنا ہے کبھی تجربہ کیا جائے
کتابیں یوں تو بہت سی ہیں میرے بارے میں
کبھی اکیلے میں خود کو بھی پڑھ لیا جائے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے