گرجا میں مندروں میں اذانوں میں بٹ گیا
ہوتے ہی صبح آدمی خانوں میں بٹ گیا
اک نام کا جو پرندہ خلا میں تھا
اترا جو شہر میں تو دکانوں میں بٹ گیا
پہلے تلاشا کھیت پھر کی کھوج کی
باقی کا وقت گیہوں کے دانوں میں بٹ گیا
جب تک تھا آسمان میں سورج سبھی کا تھا
پھر یوں ہوا وہ چند مکانوں میں بٹ گیا
ہیں تاک میں شکاری نشانہ ہیں بستیاں
عالم تمام چند مچانوں میں بٹ گیا
خبروں نے کی مصوری خبریں غزل بنیں
زندہ لہو تو تیر کمانوں میں بٹ گیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے