گھر سے نکلے تو ہو سوچا بھی کدھر جاؤ گے
ہر طرف تیز ہوائیں ہیں بکھر جاؤ گے
اتنا آساں نہیں لفظوں پہ بھروسا کرنا
گھر کی دہلیز پکارے گی جدھر جاؤ گے
شام ہوتے ہی سمٹ جائیں گے سارے رستے
بہتے سے جہاں ہو گے ٹھہر جاؤ گے
ہر نئے شہر میں کچھ راتیں کڑی ہوتی ہیں
چھت سے دیواریں جدا ہوں گی تو ڈر جاؤ گے
پہلے ہر چیز آئے گی بے معنی سی
اور پھر اپنی ہی نظروں سے اتر جاؤ گے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے