گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا
چڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا
دو اور دو کا جوڑ ہمیشہ چار کہاں ہوتا ہے
سمجھ والوں کو تھوڑی نادانی دے مولا
پھر روشن کر کا پیالہ چمکا نئی صلیبیں
جھوٹوں کی دنیا میں سچ کو تابانی دے مولا
پھر مورت سے باہر آ کر چاروں اور بکھر جا
پھر مندر کو کوئی میراؔ دیوانی دے مولا
تیرے ہوتے کوئی کس کی جان کا دشمن کیوں ہو
جینے والوں کو مرنے کی آسانی دے مولا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے