ایک ہی دھرتی ہم سب کا گھر جتنا تیرا اتنا میرا
سکھ کا یہ جنتر منتر جتنا تیرا اتنا میرا
گیہوں چاول بانٹنے والے جھوٹا تولیں تو کیا بولیں
یوں تو سب کچھ اندر باہر جتنا تیرا اتنا میرا
ہر جیون کی وہی وراثت آنسو سپنا چاہت محنت
سانسوں کا ہر بوجھ برابر جتنا تیرا اتنا میرا
سانسیں جتنی موجیں اتنی سب کی اپنی اپنی گنتی
صدیوں کا اتہاس سمندر جتنا تیرا اتنا میرا
خوشیوں کے بٹوارے تک ہی اونچے نیچے آگے پیچھے
دنیا کے مٹ جانے کا جتنا تیرا اتنا میرا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے