دو چار گام کو ہموار دیکھنا
پھر ہر قدم پہ اک نئی دیوار دیکھنا
آنکھوں کی روشنی سے ہے ہر سنگ آئینہ
ہر آئنہ میں خود کو گنہ گار دیکھنا
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
میداں کی ہار جیت تو قسمت کی بات ہے
ٹوٹی ہے کس کے ہاتھ میں تلوار دیکھنا
دریا کے اس کنارے ستارے بھی بھی
دریا چڑھا ہوا ہو تو اس پار دیکھنا
اچھی نہیں ہے شہر کے رستوں سے دوستی
آنگن میں پھیل جائے نہ بازار دیکھنا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے