ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے
جب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئے
یوں تو قدم قدم پہ ہے دیوار سامنے
کوئی نہ ہو تو خود سے الجھ جانا چاہئے
جھکتی ہوئی ہو کہ سمٹا ہوا بدن
ہر رس بھری گھٹا کو برس جانا چاہئے
چوراہے باغ بلڈنگیں سب شہر تو نہیں
کچھ ایسے ویسے لوگوں سے یارانا چاہئے
اپنی تلاش اپنی نظر اپنا تجربہ
رستہ ہو چاہے صاف بھٹک جانا چاہئے
چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقت
اس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے
بجلی کا قمقمہ نہ ہو کالا دھواں تو ہو
یہ بھی اگر نہیں ہو تو بجھ جانا چاہئے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے