اپنا لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے
جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی نہیں
ان چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے
خود کشی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی سب میں
اور کچھ دن ابھی اوروں کو ستایا جائے
باغ میں جانے کے آداب ہوا کرتے ہیں
کسی تتلی کو نہ پھولوں سے اڑایا جائے
کیا ہوا شہر کو کچھ بھی تو دکھائی دے کہیں
یوں کیا جائے کبھی خود کو رلایا جائے
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے