اچھی نہیں یہ خامشی شکوہ کرو گلہ کرو
یوں بھی نہ کر سکو تو پھر گھر میں خدا کرو
شہرت بھی اس کے ساتھ ہے دولت بھی اس کے ہاتھ ہے
خود سے بھی وہ ملے کبھی اس کے لیے کرو
دیکھو یہ شہر ہے عجب دل بھی نہیں ہے کم غضب
شام کو گھر جو آؤں میں تھوڑا سا سج لیا کرو
دل میں جسے بساؤ تم چاند اسے بناؤ تم
وہ جو کہے پڑھا کرو جو نہ کہے سنا کرو
میری نشست پہ بھی کل آئے گا کوئی دوسرا
تم بھی بنا کے راستہ میرے لیے جگہ کرو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے