آنی جانی ہر محبت ہے چلو یوں ہی سہی
جب تلک ہے خوبصورت ہے چلو یوں ہی سہی
ہم کہاں کے دیوتا ہیں بے وفا وہ ہیں تو کیا
گھر میں کوئی گھر کی زینت ہے چلو یوں ہی سہی
وہ نہیں تو کوئی تو ہوگا کہیں اس کی طرح
میں جب تک حرارت ہے چلو یوں ہی سہی
میلے ہو جاتے ہیں رشتے بھی لباسوں کی طرح
ہر دن کی محنت ہے چلو یوں ہی سہی
بھول تھی اپنی فرشتہ آدمی میں ڈھونڈنا
آدمی میں آدمیت ہے چلو یوں ہی سہی
جیسی ہونی چاہئے تھی ویسی تو دنیا نہیں
دنیا داری بھی ضرورت ہے چلو یوں ہی سہی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے