آئے گا کوئی چل کے خزاں سے میں
صدیاں گزر گئی ہیں اسی انتظار میں
چھڑتے ہی ساز بزم میں کوئی نہ تھا کہیں
وہ کون تھا جو بول رہا تھا ستار میں
یہ اور بات ہے کوئی مہکے کوئی چبھے
شن تو جتنا گل میں ہے اتنا ہے خار میں
اپنی طرح سے دنیا بدلنے کے واسطے
میرا ہی ایک گھر ہے مرے اختیار میں
تشنہ لبی نے ریت کو دریا بنا دیا
پانی کہاں تھا ورنہ کسی ریگ زار میں
مصروف گورکن کو بھی شاید پتہ نہیں
وہ خود کھڑا ہوا ہے قضا کی قطار میں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
زمیں دی ہے تو تھوڑا سا آسماں بھی دے
مرے خدا مرے ہونے کا کچھ گماں بھی دے
بنا کے بت مجھے بینائی کا عذاب نہ دے
یہ ہی عذاب ہے قسمت تو پھر زباں بھی دے