زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
تجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیں
غیروں کی دوستی پر کیوں اعتبار کیجے
یہ دشمنی کریں گے بیگانے آدمی ہیں
جو آدمی پہ گزری وہ اک سوا تمہارے
کیا جی لگا کے سنتے افسانے آدمی ہیں
کیا جرأتیں جو ہم کو درباں تمہارا ٹوکے
کہہ دو کہ یہ تو جانے پہچانے آدمی ہیں
مے بوند بھر پلا کر کیا ہنس رہا ہے ساقی
بھر بھر کے پیتے آخر پیمانے آدمی ہیں
تم نے ہمارے میں گھر کر لیا تو کیا ہے
آباد کرتے آخر ویرانے آدمی ہیں
ناصح سے کوئی کہہ دے کیجے کلام ایسا
حضرت کو تا کہ کوئی یہ جانے آدمی ہیں
جب داور قیامت پوچھے گا تم پہ رکھ کر
کہہ دیں گے صاف ہم تو بیگانے آدمی ہیں
میں وہ بشر کہ مجھ سے ہر آدمی کو نفرت
تم شمع وہ کہ تم پر پروانے آدمی ہیں
محفل بھری ہوئی ہے سودائیوں سے اس کی
اس غیرت پری پر دیوانے آدمی ہیں
شاباش داغؔ تجھ کو کیا تیغ کھائی
جی کرتے ہیں وہی جو مردانے آدمی ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا