وہ زمانہ نہیں آتا
کچھ ٹھکانا نہیں آتا
جان جاتی دکھائی دیتی ہے
ان کا آنا نظر نہیں آتا
عشق در پردہ پھونکتا ہے آگ
یہ جلانا نظر نہیں آتا
اک زمانہ مری نظر میں رہا
اک زمانہ نظر نہیں آتا
دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا
اٹھ کے جانا نظر نہیں آتا
رہیے مشتاق جلوۂ دیدار
ہم نے مانا نظر نہیں آتا
لے چلو مجھ کو راہروان عدم
یاں ٹھکانا نظر نہیں آتا
دل پہ بیٹھا کہاں سے تیر نگاہ
یہ نشانہ نظر نہیں آتا
تم ملاؤ گے خاک میں ہم کو
دل ملانا نظر نہیں آتا
آپ ہی دیکھتے ہیں ہم کو تو
دل کا آنا نظر نہیں آتا
دل پر آرزو لٹا اے داغؔ
وہ خزانہ نظر نہیں آتا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا