عذر ان کی سے نکلا
تیر گویا کمان سے نکلا
وہ چھلاوا اس آن سے نکلا
الاماں ہر سے نکلا
خار حسرت بیان سے نکلا
دل کا کانٹا زبان سے نکلا
فتنہ گر کیا مکان سے نکلا
آسماں آسمان سے نکلا
آ گیا غش نگاہ دیکھتے ہی
مدعا کب زبان سے نکلا
کھا گئے تھے وفا کا دھوکا ہم
جھوٹ سچ امتحان سے نکلا
دل میں رہنے نہ دوں ترا شکوہ
دل میں آیا زبان سے نکلا
وہم آتے ہیں دیکھیے کیا ہو
وہ اکیلا مکان سے نکلا
تم برستے رہے سر محفل
کچھ بھی میری زبان سے نکلا
سچ تو یہ ہے معاملہ دل کا
باہر اپنے گمان سے نکلا
اس کو آیت حدیث کیا سمجھیں
جو تمہاری زبان سے نکلا
پڑ گیا جو زباں سے تیری حرف
پھر نہ اپنے مکان سے نکلا
دیکھ کر روئے یار صل علیٰ
بے تحاشا زبان سے نکلا
لو قیامت اب آئی وہ کافر
بن بنا کر مکان سے نکلا
مر گئے ہم مگر ترا ارمان
دل سے نکلا نہ جان سے نکلا
رہرو راہ عشق تھے لاکھوں
آگے میں کاروان سے نکلا
سمجھو پتھر کی تم لکیر اسے
جو ہماری زبان سے نکلا
بزم سے تم کو لے کے جائیں گے
کام کب پھول پان سے نکلا
کیا مروت ہے ناوک دل دوز
پہلے ہرگز نہ جان سے نکلا
تیرے دیوانوں کا بھی لشکر آج
کس تجمل سے شان سے نکلا
مڑ کے دیکھا تو میں نے کب دیکھا
دور جب پاسبان سے نکلا
وہ ہلے لب تمہارے وعدے پر
وہ تمہاری زبان سے نکلا
اس کی بانکی ادا نے جب مارا
دم مرا آن تان سے نکلا
میرے آنسو کی اس نے کی تعریف
خوب موتی یہ کان سے نکلا
ہم کھڑے تم سے باتیں کرتے تھے
غیر کیوں درمیان سے نکلا
ذکر اہل وفا کا جب آیا
داغؔ ان کی زبان سے نکلا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا