ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
ہیں جہاں سو ہزار ہم بھی ہیں
تم بھی بے چین ہم بھی ہیں بے چین
تم بھی ہو بے قرار ہم بھی ہیں
اے فلک کہہ تو کیا ارادہ ہے
عیش کے خواست گار ہم بھی ہیں
کھینچ لائے گا جذب ان کو
ہمہ تن انتظار ہم بھی ہیں
بزم دشمن میں لے چلا ہے
کیسے بے اختیار ہم بھی ہیں
شہر خالی کئے دکاں کیسی
ایک ہی بادہ خوار ہم بھی ہیں
شرم سمجھے ترے تغافل کو
واہ کیا ہوشیار ہم بھی ہیں
ہاتھ ہم سے ملاؤ اے موسیٰ
عاشق روئے یار ہم بھی ہیں
خواہش بادۂ طہور نہیں
کیسے پرہیزگار ہم بھی ہیں
تم اگر اپنی گوں کے ہو معشوق
اپنے مطلب کے یار ہم بھی ہیں
جس نے چاہا پھنسا لیا ہم کو
دلبروں کے شکار ہم بھی ہیں
آئی مے خانے سے یہ کس کی صدا
لاؤ یاروں کے یار ہم بھی ہیں
لے ہی تو لے گی دل نگاہ تری
ہر طرح ہوشیار ہم بھی ہیں
ادھر آ کر بھی فاتحہ پڑھ لو
آج زیر مزار ہم بھی ہیں
غیر کا حال پوچھئے ہم سے
اس کے جلسے کے یار ہم بھی ہیں
کون سا دل ہے جس میں داغؔ نہیں
عشق میں یادگار ہم بھی ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا