تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
اس کی قدرت کو دیکھتا ہوں میں
جب ہوئی صبح آ گئے ناصح
انہیں حضرت کو دیکھتا ہوں میں
وہ مصیبت سنی نہیں جاتی
جس مصیبت کو دیکھتا ہوں میں
دیکھنے آئے ہیں جو میری نبض
ان کی صورت کو دیکھتا ہوں میں
مجھ کو دکھائی دیتی ہے
جب طبیعت کو دیکھتا ہوں میں
فرقت اٹھا اٹھا کر سر
صبح عشرت کو دیکھتا ہوں میں
دور بیٹھا ہوا سر محفل
رنگ صحبت کو دیکھتا ہوں میں
ہر مصیبت ہے بے مزا شب غم
آفت آفت کو دیکھتا ہوں میں
نہ محبت کو جانتے ہو تم
نہ مروت کو دیکھتا ہوں میں
کوئی دشمن کو یوں نہ دیکھے گا
جیسے قسمت کو دیکھتا ہوں میں
حشر میں داغؔ کوئی دوست نہیں
ساری خلقت کو دیکھتا ہوں میں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا