تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں
ہماری طرف اب وہ کم دیکھتے ہیں
وہ نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں
زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں
ہمیں جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
پھرے بت کدے سے تو اے اہل کعبہ
پھر آ کر تمہارے قدم دیکھتے ہیں
ہمیں چشم بینا دکھاتی ہے سب کچھ
وہ اندھے ہیں جو جام جم دیکھتے ہیں
نہ ایمائے خواہش نہ اظہار مطلب
مرے منہ کو اہل کرم دیکھتے ہیں
کبھی توڑتے ہیں وہ خنجر کو اپنے
کبھی نبض بسمل میں دم دیکھتے ہیں
غنیمت ہے چشم تغافل بھی ان کی
بہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں
غرض کیا کہ سمجھیں مرے خط کا مضموں
وہ عنوان و طرز رقم دیکھتے ہیں
سلامت رہے برا ہے کہ اچھا
ہزاروں میں یہ ایک دم دیکھتے ہیں
رہا کون محفل میں اب آنے والا
وہ چاروں طرف دم بدم دیکھتے ہیں
ادھر شرم حائل ادھر خوف مانع
نہ وہ دیکھتے ہیں نہ ہم دیکھتے ہیں
انہیں کیوں نہ ہو دل ربائی سے نفرت
کہ ہر دل میں وہ الم دیکھتے ہیں
نگہباں سے بھی کیا ہوئی بد گمانی
اب اس کو ترے ساتھ کم دیکھتے ہیں
ہمیں داغؔ کیا کم ہے یہ سرفرازی
کہ شاہ دکن کے قدم دیکھتے ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا