سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
سے سب کچھ بھلا دیا تو نے
ہم نکمے ہوئے زمانے کے
کام ایسا سکھا دیا تو نے
کچھ تعلق رہا نہ دنیا سے
شغل ایسا بتا دیا تو نے
کس خوشی کی خبر سنا کے مجھے
کا پتلا بنا دیا تو نے
کیا بتاؤں کہ کیا لیا میں نے
کیا کہوں میں کی کیا دیا تو نے
بے طلب جو ملا ملا مجھ کو
بے غرض جو دیا دیا تو نے
عمر جاوید خضر کو بخشی
آب حیواں پلا دیا تو نے
نار نمرود کو کیا گلزار
دوست کو یوں بچا دیا تو نے
دست موسیٰ میں فیض بخشش ہے
نور و لوح و عصا دیا تو نے
صبح موج نسیم گلشن کو
نفس جاں فزا دیا تو نے
شب تیرہ میں شمع روشن کو
نور خورشید کا دیا تو نے
نغمہ بلبل کو رنگ و بو گل کو
دلکش و خوش نما دیا تو نے
کہیں مشتاق سے حجاب ہوا
کہیں پردہ اٹھا دیا تو نے
تھا مرا منہ نہ قابل لبیک
کعبہ مجھ کو دکھا دیا تو نے
جس قدر میں نے تجھ سے خواہش کی
اس سے مجھ کو سوا دیا تو نے
رہبر خضر و ہادی الیاس
مجھ کو وہ رہنما دیا تو نے
مٹ گئے دل سے نقش باطل سب
نقشہ اپنا جما دیا تو نے
ہے یہی راہ منزل مقصود
خوب رستے لگا دیا تو نے
مجھ گنہ گار کو جو بخش دیا
تو جہنم کو کیا دیا تو نے
داغؔ کو کون دینے والا تھا
جو دیا اے خدا دیا تو نے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا