رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
آپ سے تم تم سے تو ہونے لگی
چاہیئے پیغام بر دونوں طرف
لطف کیا جب دو بہ دو ہونے لگی
میری رسوائی کی نوبت آ گئی
ان کی شہرت کو بہ کو ہونے لگی
ہے تری تصویر کتنی بے
ہر کسی کے رو بہ رو ہونے لگی
غیر کے ہوتے اے شام وصل
کیوں ہمارے رو بہ رو ہونے لگی
نا امیدی بڑھ گئی ہے اس قدر
آرزو کی آرزو ہونے لگی
اب کے مل کر دیکھیے کیا رنگ ہو
پھر ہماری جستجو ہونے لگی
داغؔ اترائے ہوئے پھرتے ہیں آج
شاید ان کی آبرو ہونے لگی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا