ناروا کہئے ناسزا کہئے
کہئے کہئے مجھے برا کہئے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہئے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہئے
دل کا نہ کہئے یا کہئے
جب وہ پوچھے مزاج کیا کہئے
پھر نہ رکئے جو مدعا کہئے
ایک کے بعد دوسرا کہئے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہئے کہ مدعا کہئے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہئے
دل میں رکھنے کی بات ہے عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہئے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہئے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حال دل سب سے جا بجا کہئے
مجھ کو کہئے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہئے
انتہا عشق کی خدا جانے
دم آخر کو ابتدا کہئے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدعا کہئے
ایسی کشتی کا ڈوبنا اچھا
کہ جو دشمن کو ناخدا کہئے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہئے
آ گئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہئے
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہئے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہئے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغؔ کو اور با وفا کہئے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا