مزے کے کچھ وہی جانتے ہیں
کہ جو موت کو جانتے ہیں
شب وصل لیں ان کی اتنی بلائیں
کہ ہمدم مرے ہاتھ ہی جانتے ہیں
نہ ہو دل تو کیا لطف آزار و راحت
برابر خوشی ناخوشی جانتے ہیں
جو ہے میرے دل میں انہیں کو خبر ہے
جو میں جانتا ہوں وہی جانتے ہیں
پڑا ہوں سر بزم میں دم چرائے
مگر وہ اسے بے خودی جانتے ہیں
کہاں قدر ہم جنس ہم جنس کو ہے
فرشتوں کو بھی آدمی جانتے ہیں
کہوں حال دل تو کہیں اس سے حاصل
سبھی کو خبر ہے سبھی جانتے ہیں
وہ نادان انجان بھولے ہیں ایسے
کہ سب شیوۂ دشمنی جانتے ہیں
نہیں جانتے اس کا انجام کیا ہے
وہ مرنا میرا دل لگی جانتے ہیں
سمجھتا ہے تو داغؔ کو رند زاہد
مگر رند اس کو ولی جانتے ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا