کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
جاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو
مطلب کی کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیں
مطلب کی پوچھتے ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو
آتا ہے بعد ظلم تمہیں کو تو رحم بھی
اپنے کیے سے میں پشیماں تمہیں تو ہو
پچھتاؤ گے بہت مرے کو اجاڑ کر
اس گھر میں اور کون ہے مہماں تمہیں تو ہو
اک روز رنگ لائیں گی یہ مہربانیاں
ہم جانتے تھے جان کے خواہاں تمہیں تو ہو
دل دار و دل فریب دل آزار و دل ستاں
لاکھوں میں ہم کہیں گے کہ ہاں ہاں تمہیں تو ہو
کرتے ہو داغؔ دور سے بت خانے کو سلام
اپنی طرح کے ایک مسلماں تمہیں تو ہو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا