جلوے مری میں کون و مکاں کے ہیں
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
کھلتے نہیں ہیں راز جو سوز نہاں کے ہیں
کیا پھوٹنے کے واسطے چھالے زباں کے ہیں
کرتے ہیں قتل وہ طلب مغفرت کے بعد
جو تھے کے ہاتھ وہی امتحاں کے ہیں
جس روز کچھ شریک ہوئی میری مشت خاک
اس روز سے زمیں پہ ستم آسماں کے ہیں
بازو دکھائے تم نے لگا کر ہزار ہاتھ
پورے پڑے تو وہ بھی بہت امتحاں کے ہیں
ناصح کے سامنے کبھی سچ بولتا نہیں
میری زباں میں رنگ تمہاری زباں کے ہیں
کیسا جواب حضرت دل دیکھیے ذرا
پیغام بر کے ہاتھ میں ٹکڑے زباں کے ہیں
کیا اضطراب شوق نے مجھ کو خجل کیا
وہ پوچھتے ہیں کہئے ارادے کہاں کے ہیں
عاشق ترے عدم کو گئے کس قدر تباہ
پوچھا ہر ایک نے یہ مسافر کہاں کے ہیں
ہر چند داغؔ ایک ہی عیار ہے مگر
دشمن بھی تو چھٹے ہوئے سارے جہاں کے ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا