اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
روز کہتے ہیں آپ آج نہیں
کل جو تھا آج وہ مزاج نہیں
اس تلون کا کچھ علاج نہیں
آئنہ دیکھتے ہی اترائے
پھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں
لے کے رکھ لو کام آئے گا
گو ابھی تم کو احتیاج نہیں
ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکر
ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں
چپ لگی لعل جاں فزا کو ترے
اس مسیحا کا کچھ علاج نہیں
بے مدعا خدا نے دیا
اب کسی شے کی احتیاج نہیں
کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرا
درہم داغ کا رواج نہیں
بے نیازی کی شان کہتی ہے
بندگی کی کچھ احتیاج نہیں
دل لگی کیجئے رقیبوں سے
اس طرح کا مرا مزاج نہیں
عشق ہے پادشاہ عالم گیر
گرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں
درد فرقت کی گو دوا ہے وصال
اس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں
یاس نے کیا بجھا دیا دل کو
کہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں
ہم تو سیرت پسند عاشق ہیں
خوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں
حور سے پوچھتا ہوں جنت میں
اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں
صبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گے
ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا