سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم
خون میں نہائے تو گنگا نہائیں ہم
جنت میں جائیں ہم کہ جہنم میں جائیں ہم
مل جائے تو کہیں نہ کہیں تجھ کو پائیں ہم
جوف فلک میں خاک بھی لذت نہیں رہی
جی چاہتا ہے تیری جفائیں اٹھائیں ہم
ڈر ہے نہ بھول جائے وہ سفاک روز حشر
دنیا میں لکھتے جاتے ہیں اپنی خطائیں ہم
ممکن ہے یہ کہ وعدے پر اپنے وہ آ بھی جائے
مشکل یہ ہے کہ آپ میں اس وقت آئیں ہم
ناراض ہو خدا تو کریں بندگی سے خوش
معشوق روٹھ جائے تو کیونکر منائیں ہم
سر دوستوں کا کاٹ کے رکھتے ہیں سامنے
غیروں سے پوچھتے ہیں قسم کس کی کھائیں ہم
کتنا ترا مزاج خوشامد پسند ہے
کب تک کریں خدا کے لیے التجائیں ہم
لالچ عبث ہے دل کا تمہیں وقت واپسیں
یہ مال وہ نہیں کہ جسے چھوڑ جائیں ہم
سونپا تمہیں خدا کو چلے ہم تو نا مراد
کچھ پڑھ کے بخشنا جو کبھی یاد آئیں ہم
سوز دروں سے اپنے شرر بن گئے ہیں اشک
کیوں آہ سرد کو نہ پتنگے لگائیں ہم
یہ جان تم نہ لو گے اگر آپ جائے گی
اس بے وفا کی خیر کہاں تک منائیں ہم
ہم سایے جاگتے رہے نالوں سے رات بھر
سوئے ہوئے نصیب کو کیونکر جگائیں ہم
جلوہ دکھا رہا ہے وہ آئینۂ جمال
آتی ہے ہم کو شرم کہ کیا منہ دکھائیں ہم
مانو کہا جفا نہ کرو تم وفا کے بعد
ایسا نہ ہو کہ پھیر لیں الٹی دعائیں ہم
دشمن سے ملتے جلتے ہیں خاطر سے دوستی
کیا فائدہ جو دوست کو دشمن بنائیں ہم
تو بھولنے کی چیز نہیں خوب یاد رکھ
اے داغؔ کس طرح تجھے دل سے بھلائیں ہم
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا