غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا
جھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا
ان کے گھر داغؔ جا کے دیکھ لیا
کے کہنے میں آ کے دیکھ لیا
کتنی فرحت فزا تھی بوئے وفا
اس نے کو جلا کے دیکھ لیا
کبھی غش میں رہا شب وعدہ
کبھی گردن اٹھا کے دیکھ لیا
جنس دل ہے یہ وہ نہیں سودا
ہر جگہ سے منگا کے دیکھ لیا
لوگ کہتے ہیں چپ لگی ہے تجھے
حال دل بھی سنا کے دیکھ لیا
جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفا
بارہا آزما کے دیکھ لیا
زخم دل میں نہیں ہے قطرۂ خوں
خوب ہم نے دکھا کے دیکھ لیا
ادھر آئینہ ہے ادھر دل ہے
جس کو چاہا اٹھا کے دیکھ لیا
ان کو خلوت سرا میں بے پردہ
صاف میدان پا کے دیکھ لیا
اس نے صبح شب وصال مجھے
جاتے جاتے بھی آ کے دیکھ لیا
تم کو ہے وصل غیر سے انکار
اور جو ہم نے آ کے دیکھ لیا
داغؔ نے خوب عاشقی کا مزا
جل کے دیکھا جلا کے دیکھ لیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا