پریشان ہوا جاتا ہے
اور سامان ہوا جاتا ہے
خدمت پیر مغاں کر زاہد
تو اب انسان ہوا جاتا ہے
سے پہلے مجھے قتل کرو
اس کا احسان ہوا جاتا ہے
لذت عشق الٰہی مٹ جائے
درد ارمان ہوا جاتا ہے
دم ذرا لو کہ مرا دم تم پر
ابھی قربان ہوا جاتا ہے
گریہ کیا ضبط کروں اے ناصح
اشک پیمان ہوا جاتا ہے
بے وفائی سے بھی رفتہ رفتہ
وہ مری جان ہوا جاتا ہے
عرصۂ حشر میں وہ آ پہنچے
صاف میدان ہوا جاتا ہے
مدد اے ہمت دشوارپسند
کام آسان ہوا جاتا ہے
چھائی جاتی ہے یہ وحشت کیسی
گھر بیابان ہوا جاتا ہے
شکوہ سن آنکھ ملا کر ظالم
کیوں پشیمان ہوا جاتا ہے
آتش شوق بجھی جاتی ہے
خاک ارمان ہوا جاتا ہے
عذر جانے میں نہ کر اے قاصد
تو بھی نادان ہوا جاتا ہے
مضطرب کیوں نہ ہوں ارماں دل میں
قید مہمان ہوا جاتا ہے
داغؔ خاموش نہ لگ جائے نظر
شعر دیوان ہوا جاتا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا