کو کیا ہو گیا خدا جانے
کیوں ہے ایسا اداس کیا جانے
اپنے میں بھی اس کو صرفہ ہے
نہ کھلا جانے وہ نہ کھا جانے
اس تجاہل کا کیا ٹھکانا ہے
جان کر جو نہ مدعا جانے
کہہ دیا میں نے راز دل اپنا
اس کو تم جانو یا خدا جانے
کیا غرض کیوں ادھر توجہ ہو
حال دل آپ کی بلا جانے
جانتے جانتے ہی جانے گا
مجھ میں کیا ہے ابھی وہ کیا جانے
کیا ہم اس بد گماں سے بات کریں
جو ستائش کو بھی گلہ جانے
تم نہ پاؤ گے سادہ دل مجھ سا
جو تغافل کو بھی حیا جانے
ہے عبث جرم عشق پر الزام
جب خطاوار بھی خطا جانے
نہیں کوتاہ دامن امید
آگے اب دست نارسا جانے
جو ہو اچھا ہزار اچھوں کا
واعظ اس بت کو تو برا جانے
کی مری قدر مثل شاہ دکن
کسی نواب نے نہ راجا نے
اس سے اٹھے گی کیا مصیبت عشق
ابتدا کو جو انتہا جانے
داغؔ سے کہہ دو اب نہ گھبراؤ
کام اپنا بتا ہوا جانے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا