ناکام کے ہیں کام خراب
کر لیا عاشقی میں نام خراب
اس خرابات کا یہی ہے مزہ
کہ رہے آدمی مدام خراب
دیکھ کر جنس وہ کہتے ہیں
کیوں کرے کوئی اپنے دام خراب
ابر تر سے صبا ہی اچھی تھی
میری مٹی ہوئی تمام خراب
وہ بھی ساقی مجھے نہیں دیتا
وہ جو ٹوٹا پڑا ہے جام خراب
کیا ملا ہم کو زندگی کے سوا
وہ بھی دشوار ناتمام خراب
واہ کیا منہ سے پھول جھڑتے ہیں
خوب رو ہو کے یہ کلام خراب
چال کی رہنمائے عشق نے بھی
وہ دکھایا جو تھا مقام خراب
داغؔ ہے بد چلن تو ہونے دو
سو میں ہوتا ہے اک غلام خراب
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا