دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی
اس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئی
پردے پردے میں محبت دشمن جانی ہوئی
یہ کی مار کیا اے شوق پنہانی ہوئی
کا سودا کر کے ان سے کیا پشیمانی ہوئی
قدر اس کی پھر کہاں جس شے کی ارزانی ہوئی
میرے گھر اس شوخ کی دو دن سے مہمانی ہوئی
بیکسی کی آج کل کیا خانہ ویرانی ہوئی
ترک رسم و راہ پر افسوس ہے دونوں طرف
ہم سے نادانی ہوئی یا تم سے نادانی ہوئی
ابتدا سے انتہا تک حال ان سے کہہ تو دوں
فکر یہ ہے اور جو کہہ کر پشیمانی ہوئی
غم قیامت کا نہیں واعظ مجھے یہ فکر ہے
دین کب باقی رہا دنیا اگر فانی ہوئی
تم نہ شب کو آؤ گے یہ ہے یقیں آیا ہوا
تم نہ مانو گے مری یہ بات ہے مانی ہوئی
مجھ میں دم جب تک رہا مشکل میں تھے تیماردار
میری آسانی سے سب یاروں کی آسانی ہوئی
اس کو کیا کہتے ہیں اتنا ہی بڑھا شوق وصال
جس قدر مشہور ان کی پاک دامانی ہوئی
بزم سے اٹھنے کی غیرت بیٹھنے سے دل کو رشک
دیکھ کر غیروں کا مجمع کیا پریشانی ہوئی
دعویٰ تسخیر پر یہ اس پری وش نے کہا
آپ کا دل کیا ہوا مہر سلیمانی ہوئی
کھل گئیں زلفیں مگر اس شوخ مست ناز کی
جھومتی باد صبا پھرتی ہے مستانی ہوئی
میں سراپا سجدے کرتا اس کے در پر شوق سے
سر سے پا تک کیوں نہ پیشانی ہی پیشانی ہوئی
دل کی قلب ماہیت کا ہو اسے کیونکر یقیں
کب ہوا مٹی ہوئی ہے آگ کب پانی ہوئی
آتے ہی کہتے ہو اب گھر جائیں گے اچھی کہی
یہ مثل پوری یہاں من مانی گھر جانی ہوئی
عرصۂ محشر میں تجھ کو ڈھونڈ لاؤں تو سہی
کوئی چھپ سکتی ہے جو صورت ہو پہچانی ہوئی
دیکھ کر قاتل کا خالی ہاتھ بھی جی ڈر گیا
اس کی چین آستیں بھی چین پیشانی ہوئی
کھا کے دھوکا اس بت کمسن نے دامن میں لیے
اشک افشانی بھی میری گوہر افشانی ہوئی
بیکسی پر میری اپنی تیغ کی حسرت تو دیکھ
چشم جوہر بھی بشکل چشم حیرانی ہوئی
بیکسی پر داغؔ کی افسوس آتا ہے ہمیں
کس جگہ کس وقت اس کی خانہ ویرانی ہوئی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا