باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا
افسانہ عاشقوں کا فقط رہ گیا
یہ سخت جاں تو قتل سے ناشاد رہ گیا
خنجر چلا تو بازوئے جلاد رہ گیا
پابندیوں نے کی بیکس رکھا مجھے
میں سو اسیریوں میں بھی آزاد رہ گیا
چشم صنم نے یوں تو بگاڑے ہزار گھر
اک کعبہ چند روز کو آباد رہ گیا
محشر میں جائے شکوہ کیا شکر یار کا
جو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا
ان کی تو بن پڑی کہ لگی جان مفت ہاتھ
تیری گرہ میں کیا دل ناشاد رہ گیا
پر نور ہو رہے گا یہ ظلمت کدہ اگر
دل میں بتوں کا شوق خداداد رہ گیا
یوں آنکھ ان کی کر کے اشارہ پلٹ گئی
گویا کہ لب سے ہو کے کچھ ارشاد رہ گیا
ناصح کا جی چلا تھا ہماری طرح مگر
الفت کی دیکھ دیکھ کے افتاد رہ گیا
ہیں تیرے دل میں سب کے ٹھکانے برے بھلے
میں خانماں خراب ہی برباد رہ گیا
وہ دن گئے کہ تھی مرے سینے میں کچھ خراش
اب دل کہاں ہے دل کا نشاں یاد رہ گیا
صورت کو تیری دیکھ کے کھنچتی ہے جان خلق
دل اپنا تھام تھام کے بہزاد رہ گیا
اے داغؔ دل ہی دل میں گھلے ضبط عشق سے
افسوس شوق نالہ و فریاد رہ گیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا