اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا کا
تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے
میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانا دل کا
نگۂ یار نے کی خانہ خرابی ایسی
نہ ٹھکانا ہے جگر کا نہ ٹھکانا دل کا
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک
کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا
غنچۂ گل کو وہ مٹھی میں لیے آتے تھے
میں نے پوچھا تو کیا مجھ سے بہانا دل کا
ان حسینوں کا لڑکپن ہی رہے یا اللہ
ہوش آتا ہے تو آتا ہے ستانا دل کا
دے خدا اور جگہ سینہ و پہلو کے سوا
کہ برے وقت میں ہو جائے ٹھکانا دل کا
میری آغوش سے کیا ہی وہ تڑپ کر نکلے
ان کا جانا تھا الٰہی کہ یہ جانا دل کا
نگہ شرم کو بے تاب کیا کام کیا
رنگ لایا تری آنکھوں میں سمانا دل کا
انگلیاں تار گریباں میں الجھ جاتی ہیں
سخت دشوار ہے ہاتھوں سے دبانا دل کا
حور کی شکل ہو تم نور کے پتلے ہو تم
اور اس پر تمہیں آتا ہے جلانا دل کا
چھوڑ کر اس کو تری بزم سے کیوں کر جاؤں
اک جنازے کا اٹھانا ہے اٹھانا دل کا
بے دلی کا جو کہا حال تو فرماتے ہیں
کر لیا تو نے کہیں اور ٹھکانا دل کا
بعد مدت کے یہ اے داغؔ سمجھ میں آیا
وہی دانا ہے کہا جس نے نہ مانا دل کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا