آرزو ہے وفا کرے کوئی
جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
گر مرض ہو دوا کرے کوئی
مرنے والے کا کیا کرے کوئی
کوستے ہیں جلے ہوئے کیا کیا
اپنے حق میں کرے کوئی
ان سے سب اپنی اپنی کہتے ہیں
میرا مطلب ادا کرے کوئی
چاہ سے آپ کو تو نفرت ہے
مجھ کو چاہے کرے کوئی
اس گلے کو گلہ نہیں کہتے
گر مزے کا گلا کرے کوئی
یہ ملی داد رنج فرقت کی
اور دل کا کہا کرے کوئی
تم سراپا ہو صورت تصویر
تم سے پھر بات کیا کرے کوئی
کہتے ہیں ہم نہیں خدائے کریم
کیوں ہماری خطا کرے کوئی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
ایسی جنت کو کیا کرے کوئی
اس جفا پر تمہیں تمنا ہے
کہ مری التجا کرے کوئی
منہ لگاتے ہی داغؔ اترایا
لطف ہے پھر جفا کرے کوئی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعثِ ترکِ ملاقات بتاتے بھی نہیں
تمہارے خط میں نیا ایک سلام کس کا تھا
نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا
غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
آفت کی شوخیاں ہیں تمہاری نگاہ میں
محشر کے فتنے کھیلتے ہیں جس کی راہ میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
ایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا