مثل صحرا ہے رفاقت کا بھی اب کے
جل بجھا اپنے ہی شعلوں میں بدن بھی اب کے
خار و خس ہوں تو شرر خیزیاں دیکھوں پھر سے
آنکھ لے آئی ہے اک ایسی کرن بھی اب کے
ہم تو وہ جو شاخوں پہ یہ سوچیں پہروں
کیوں صبا بھول گئی اپنا چلن بھی اب کے
منزلوں تک نظر آتا ہے شکستوں کا غبار
ساتھ دیتی نہیں ایسے میں تھکن بھی اب کے
منسلک ایک ہی رشتے میں نہ ہو جائے کہیں
ترے ماتھے ترے بستر کی شکن بھی اب کے
بے گناہی کے لبادے کو اتارو بھی نصیرؔ
راس آ جائے اگر جرم سخن بھی اب کے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.