کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میں
مہکی ہے مگر جی ہے نڈھال ایسے میں
میرے اطراف تو گرتی ہوئی دیواریں ہیں
سایۂ عمر رواں مجھ کو سنبھال ایسے میں
جب بھی چڑھتے ہوئے میں سفینہ اترا
یاد آیا ترے لہجے کا کمال ایسے میں
آنکھ کھلتی ہے تو سب خواب بکھر جاتے ہیں
سوچتا ہوں کہ بچھا دوں کوئی جال ایسے میں
مدتوں بعد اگر سامنے آئے ہم تم
دھندلے دھندلے سے ملیں گے خد و خال ایسے میں
ہجر کے پھول میں ہے درد کی باسی خوشبو
موسم وصل کوئی تازہ ملال ایسے میں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.