انجیل رفتگاں کی حدیثوں کے ساتھ ہوں
عیسیٰ نفس ہوں اور صلیبوں کے ساتھ ہوں
پابند رنگ و نقش ہوں تصویر کی طرح
میں بے اپنے حجابوں کے ساتھ ہوں
اوراق آرزو پہ بہ عنوان جاں کنی
میں بے نشاں سی چند لکیروں کے ساتھ ہوں
شاید یہ انتظار کی لو فیصلہ کرے
میں اپنے ساتھ ہوں کہ دریچوں کے ساتھ ہوں
تو فتح مند میرا تراشا ہوا
میں بت تراش اپنی شکستوں کے ساتھ ہوں
موج صبا کی زد پہ سر رہ گزار شوق
میں بھی نصیرؔ گھر کے چراغوں کے ساتھ ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.